زندگی ایک ایسے اخبار کی طرح بن چکی ہے کہ جہاں صرف ظلم و تشدد، جھوٹ، لوٹ مار، اور الزام تراشیوں کی سرخیاں چھب رہی ہیں۔ ایک ایسا اخبار جہاں آنکھیں کوئی اچھی خبر پڑھنے کو اور دیکھنے کو ترس گئیں ہیں۔ الفاظ سے باورد کی بو اور دھواں اٹھ رہا ہے اور تصویریں خون کی سرخی اور دھوئیں کی سیاہی سے رنگی ہوئی ہیں۔ تجزئیے حالات کے خونی مناظرکی منظر کشی سے بھرے پڑے ہیں اور سوالات کی انگلیاں صرف ایک دوسرے پر اٹھ رہی ہیں۔ مختلف لشکر ہیں جو اپنے اپنے نظریے کی حمایت میں تلواریں لے کر دوسروں کی گردنوں کے نشانے لے رہے ہیں۔ ایک میدان جنگ ہے جس میں پتہ نہیں چل رہاکہ جنگ لڑی کس لئے جارہی ہے۔ اس اخبار کے صفحہ اول پر ان لوگوں کا قبضہ ہے جو ایک مدت سے ہماری زندگیوں کے کئی صفحات غائب کرچکے ہیں، جو ہماری زندگی کی کتابوں سے پورے کے پورے عنوان پھاڑ کر کہیں پھینک چکے ہیں۔اول تو ہماری خبریں اس اخبار کے صفحوں پر جگہ پاتی ہی نہیں اور اگر کبھی پا بھی لیں تو اندر کے کسی صفحے کے کسی چھوٹے سے کونے میں ہمیں فٹ کردیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو اس اخبار کی سرخی بننا ہے تو آپ کو کوئی بڑا جرم یا بڑا گناہ کرنا ہوگا۔ آپ کو یزید کی تلوار اٹھانی ہوگی، آپ کو طاغوت کا سپاہی بننا ہوگا۔ کاتب مطلق کے پرنٹنگ پریس میں چھپنے والے اس خبار میں ابھی اچھی سرخیاں لگنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا اور نہ اچھی خبریں چھپنے کی کوئی صورت نظر آرہی ہے اور نہ ہی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے والی تصویروں کی کوئی جگہ بنتی نظر آرہی ہے۔ ابھی آپ کو صرف
بری خبروں پر ہی اکتفا کرنے پڑے گا، ابھی اخبار کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔
No comments:
Post a Comment