میری نظر سے
Thursday, February 22, 2018
Pakistan Super League Season 3
Cricket is a game of spirit especially for a nation like us who have been surrounded by stress and frustration throughout the year.Pakistan is among those countries where political instability, Inflation, terrorism, extremism, and poor economic condition bound the limitations in recreational activities. In this circumstances, Pakistan Super League (PSL) spring up a new ray of hope for the love of cricket.It paved the way back to International cricket for Pakistan.The two successful previous edition of PSL forecast the bright future for the upcoming PSL.
The six-team including Peshawar Zalmi, Quetta Gladiator, Karachi kings, Islamabad United, Lahore Qalandar, and new addition Multan Sultan stringing hard to clinch the Team trophy season 3 of PSL. Each team has its own shortcoming and strengths, enhancing the spirit of game.so If I begin to predict the team performance this season, being the supporter of Karachi kings It is hard to be neutral but anyway I am gonna take me to this tough grind.
If there is one team in the Pakistan Super League that has ruled both the pitch and the spectators' heart, Its Peshawar Zalmi .being the finalist in the first edition and winner of 2nd edition making it to successful team of PSL till now.Zalmi 's key strength so far has been their aggressive playing style.Zalmi skipper Darren Samey is one of the most enthusiastic international players with his full devotion to the team.they have the firepower to defeat any team but It seems difficult this time as Boom Boom Afridi's departure to Karachi Kings weakened the strength of Peshawar Zalmi.
After the addition of Shahid Afridi, Karachi kings have the largest fn base team in this PSL.Afridi is likely to bring unity in the team which was badly needed in the previous edition.Imad Wasim skipper of karachi has a good opportunity to show his potential as captain under the umbrella of Afridi's leadership skills. The squad of Karachi kings is a nice blend of young and experienced players.well, Hassan Mohsin is a player to watch in Karachi kings. He might be the gold finding of the third PSL. People want to see Karachi play final in city ground and win the trophy.
On the other hand.Quetta Gladiator is the only PSL Franchise that has cleared all its dues with the PCB and enjoy high-performance record since the inception of the league in 2016. The aggressive skipper Sarfraz Ahmad has successfully utilized the skills of Gladiator and this consistency would come in handy for this game.
After Quetta Gladiator Islamabad United is the only franchise to have retained the same captain since the start of PSL.the spot-fixing case which trapped Muhammad Irfan.Sharjeel Khan and Khalid Latif in last battle of PSL has shattered the confidant of United since Waseem Akram also left the team and join Multan Sultan (sab Dollar ka Chakkar he ;) )However it could be balanced out by the extraordinary player like shadab Khan and Ruman raees under the coaching of Waqar Yonis, Saeed Ajmal, and Austrailian Dean Jones.Let's see how this combination style in PSL 3.
Now you will be missing Lahore Qalandar ;) so here we go that despite the fact that this team finish bottom of the game in the previous season however what make the Qalandar stands out among other team is their domestic talent hunt program that has dug out the Potential future stars for Pakistan cricket.
The Multan Sultans, a franchise representative Pakistan fifth largest city, will make it debut in this PSL3 and It is the most expensive team of the season where Dubai-based firm SCHON group holding the hand of Sultans.Sultan squads is built around specialist T-20 all-rounders like Malik, Pollard, Sohail Tanveer, Ahmed Shahzad, bravo and Sangakara, the sultan have all the right ingredients to post big scorer.
These superly excited teams with the crazy fan of cricket are ready to rock the season. last but not the least as the final game held in Karachi so let's invoke for the peaceful final in Karachi.keeping this in mind we should show the positive spirit of the game, much more to say, more to pray, more to rejoice now because it's all about Pakistan Super League Season 3.
Sunday, September 3, 2017
اخبار کی سرخیاں
زندگی ایک ایسے اخبار کی طرح بن چکی ہے کہ جہاں صرف ظلم و تشدد، جھوٹ، لوٹ مار، اور الزام تراشیوں کی سرخیاں چھب رہی ہیں۔ ایک ایسا اخبار جہاں آنکھیں کوئی اچھی خبر پڑھنے کو اور دیکھنے کو ترس گئیں ہیں۔ الفاظ سے باورد کی بو اور دھواں اٹھ رہا ہے اور تصویریں خون کی سرخی اور دھوئیں کی سیاہی سے رنگی ہوئی ہیں۔ تجزئیے حالات کے خونی مناظرکی منظر کشی سے بھرے پڑے ہیں اور سوالات کی انگلیاں صرف ایک دوسرے پر اٹھ رہی ہیں۔ مختلف لشکر ہیں جو اپنے اپنے نظریے کی حمایت میں تلواریں لے کر دوسروں کی گردنوں کے نشانے لے رہے ہیں۔ ایک میدان جنگ ہے جس میں پتہ نہیں چل رہاکہ جنگ لڑی کس لئے جارہی ہے۔ اس اخبار کے صفحہ اول پر ان لوگوں کا قبضہ ہے جو ایک مدت سے ہماری زندگیوں کے کئی صفحات غائب کرچکے ہیں، جو ہماری زندگی کی کتابوں سے پورے کے پورے عنوان پھاڑ کر کہیں پھینک چکے ہیں۔اول تو ہماری خبریں اس اخبار کے صفحوں پر جگہ پاتی ہی نہیں اور اگر کبھی پا بھی لیں تو اندر کے کسی صفحے کے کسی چھوٹے سے کونے میں ہمیں فٹ کردیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو اس اخبار کی سرخی بننا ہے تو آپ کو کوئی بڑا جرم یا بڑا گناہ کرنا ہوگا۔ آپ کو یزید کی تلوار اٹھانی ہوگی، آپ کو طاغوت کا سپاہی بننا ہوگا۔ کاتب مطلق کے پرنٹنگ پریس میں چھپنے والے اس خبار میں ابھی اچھی سرخیاں لگنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا اور نہ اچھی خبریں چھپنے کی کوئی صورت نظر آرہی ہے اور نہ ہی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے والی تصویروں کی کوئی جگہ بنتی نظر آرہی ہے۔ ابھی آپ کو صرف
بری خبروں پر ہی اکتفا کرنے پڑے گا، ابھی اخبار کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔
Saturday, July 22, 2017
zindagi or maut ka safar
یہ ابھی تھوڑے دن پہلے کی بات ہے… میں اپنی دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں گئی.. جوان لوگوں کی رعنائیوں سے بھرپور ایک تقریب…آج تو سارے لڑکے مجھے دیکھ کر گھائل ہو جائیں گے…گھر سے نکلنے سے پہلے اپنے میک اپ کو آخری ٹچ دیتے، خود کو شیشے میں دیکھتے، میں نے سوچا تھا… اور ہوا بھی ایسا… کون تھا جس کی نظر مجھ پر پڑنے کے بعد اردگرد بھٹکنا بھول گئی ہو. میں بھی تتلی کی طرح ادائے بے نیازی سے اڑتی پھر رہی تھی… میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی… سارا مجمع میری تعریفوں کے پل باندھنے میں مصروف رہا.. دوستیں الگ ایک طرف کھڑی حسد کے مارے جل بھن رہی تھیں.. اور میں دل ہی دل میں ان پر ہنسے جا رہی تھی… ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ میں کسی تقریب میں جاؤں اور نظروں کے حصار میں نہ آؤں… ناممکن.. اس وقت میری خواہش تھی کہ کالج کی میری وہ کلاس فیلو بھی موجود ہوتی جو ہر وقت بڑی سی چادر لپیٹے دوسروں کو جسم ڈھانپنے کے بھاشن دیتی پھرتی… وہ آتی اور دیکھتی… لوگ کیسے مجھ سے متاثر ہوئے جا رہے ہیں… کیا چادر لپیٹ کر، منہ پہ بکل چڑھائے، ایک کونے میں گھس کر بیٹھے رہنے سے اس معاشرے میں جگہ بنا سکتی تھی… ہنہہ… چھوٹی سوچ کے چھوٹے لوگ… انہیں کیا پتہ زندگی سے کیسے لطف اندوز ہوتے ہیں.. ایک دن کلاس میں آ کر پھر سے شروع ہو گئی…پہلے پہل تو میں اس کا منہ تکتی رہی پھر کندھے اچکا کر اسے جتلایا کہ اس کی بات مجھے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں… “آپ خود کو ایک بار اللہ کے لیے ڈھانپ کر دیکھیں… پھر دیکھنا کیسا نور ملتا…” وہ میرا حقیرانہ انداز دیکھ کر بھی نرمی سے بولی… نور…؟ اپنا سانولا منہ اور حلیہ دیکھو.. اور میرا چمکتا دمکتا چہرہ دیکھو… اگر نور ایسا ہوتا ہے تو مجھے نہیں چاہیے…. (قہقہہ) میں نے اسے یہ کہا اور اٹھ کر وہاں سے چلی آئی… مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ وہ کیا سوچے گی…ایسے لوگوں کو میں خوب جانتی تھی… پھر میں اپنی زندگی میں مگن ہوتی چلی گئی…ہر وہ فیشن جو نیا آتا میں ضرور آزماتی… چاہے وہ ٹائٹ جینز ہوتی، ٹخنوں سے اوپر ٹراؤزر یا سلیولیس قمیض… مجھے بس خوبصورت لگنا تھا… ہر حال میں…… بیوٹی پارلر میں بھنویں بنوانے سے لے کے ہیئرکٹ تک، ہر چیز پہ کھلے پیسے خرچ کرتی… مجھے اپنا رکھ رکھاؤ برقرار رکھنا تھا… ہر قیمت پر… اسی موج مستی میں دن رات گزارتی رہی… کالج سے یونیورسٹی کا سفر شروع ہوا… اور اب یہاں تو میرا الگ سے امتحان شروع ہو گیا… ہر روز نک سک سے تیار ہو کر جانا پڑتا… آخر کو میں اپنی یونیورسٹی کی سب سے حسین اور فیشن ایبل لڑکی تھی… میرا اپنا مقام تھا… اپنا غرور … لڑکے بھی میرے اردگرد گھومتے رہتے… مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا تھا… ان کا میرے اردگرد پھرتے رہنا… مجھ سے دوستی کے لیے درخواستیں کرتے رہنا… میں بھی ان کا دل رکھنے کے لیے ان سے بات کر لیتی…نہ انہیں اپنے ایمان کی فکر تھی اور نہ ہی میری زندگی میں دین کوئی قابل عمل چیز تھا… زندگی بہت مزے کی گزر رہی تھی اور ایک پارٹی سے واپس گھر کے راستے میں اچانک…. ____________ مجھے عائشہ بہت یاد آتی ہے…. اس کا سانولا چہرہ…اس کی باتیں…اس دن جب میں اس پر ہنس کر چلی آئی تو پیچھے اس کی آواز سنائی دی تھی، ” زندگی بھی ایک پل صراط ہے، جس پر چلنے کے لیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے…اس لیے اللہ سے اس کا نور طلب کرتے رہنا چاہیے…کیونکہ جسے اللہ نور نہ بخشے، پھر اس کے لیے کوئی نور نہیں ہوتا…اور وہی ہوا… نہ میں نے نور کی چاہ کی، نہ ہی مجھے روشنی دی گئی… اب میرے پاس کچھ بھی نہیں… میں نور مانگتی بھی ہوں تو نہیں ملتا… میرا چہرہ سیاہ ہو گیا ہے… وہ چہرہ جسے میں سنوارتے نہیں تھکتی تھی اب لوگ اسے دیکھیں تو ڈر جائیں…وہ “سارا” جو تعریفوں کے درمیان گھری رہتی تھی، آج اسے کوئی پوچھنے بھی نہیں آتا… اس تاریکی میں مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا… نہ ہی میں اپنی وحشت کو کم کرنے باہر جا سکتی ہوں… تاریکی پر تاریکی ہے… ہدایت میرے سامنے کھڑی ہے… اطاعت اب میں کرنا چاہتی ہوں…پر میں کیا کروں… میں تو ہل بھی نہیں پا رہی…میری کوئی مدد کرے… مجھے نور چاہیے…مجھے حصار میں لیے اس لمبی تاریک رات کو کوئی ختم کر دے… مجھے ایک بار سجدہ کرنا ہے… اس رب کو جسے میں بھلائے بیٹھی تھی… صرف ایک بار… عائشہ تم نے جو آیت سنائی تھی مجھے.. “جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے پھر کوئی نور نہیں…” تو آج اس کی عملی تفسیر بنی بیٹھی ہوں… ( آنسو) …دیکھو کوئی روشنی نہیں… صرف اندھیرا ہے… میرے گناہوں کا… اور دوسروں کے گناہوں کی کالک بھی میرے چہرے پر مل دی گئی ہے.. میں ان کو گمراہ کرتی پھرتی تھی.. ان کا ایمان میں نے خطرے میں ڈالا… اللہ کو میں نے بھلا دیا… آج زمین کے نیچے قبر میں پڑی میں بھلا دی گئی ہوں… کوئی مجھے یہاں سے نکال لے…ایک بار.. صرف ایک بار… میں دنیا میں واپس جا کر اطاعت کی زندگی بسر کرنا چاہتی ہوں… (سسکیاں)
Subscribe to:
Comments (Atom)